مودی بابری مسجد اور مسلمانوں کا قاتل ہے، سراج الحق

مودی بابری مسجد اور مسلمانوں کا قاتل ہے، سراج الحق

 06:31 pm  

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ مودی بابری مسجداورگجرات کے3 ہزار مسلمانوں کا قاتل ہے۔

اسلام آباد میں کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ دنیا کا سب سے طویل ترین محاصرہ کشمیریوں کا جاری ہے، پانچ اگست سے اب تک کشمیر کا ہر کوچہ و گلی کربلا بن گئی ہے، ہزاروں کشمیری نوجوان بینائی سے محروم کئے گئے، ماؤں کی گود میں ان کے بچے شہید کیے گئے، کشمیریوں کو تمام حقوق سے محروم کیا گیا، 18 ہزار کشمیری نوجوان گرفتار ہیں اور14 ہزار ماؤں بہنوں، بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی لیکن پھر بھی کشمیریوں کی زبان پر یہی نعرہ ہوتا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ مودی بابری مسجد اور گجرات کے3 ہزار مسلمانوں کا قاتل ہے، پانچ اگست کا واقعہ بھی اچانک نہیں ہوا بلکہ یہ مودی کے منشور کا حصہ تھا پھر وہ وزیراعظم بن گیا، مودی کہتا میرے تین وعدے تھے بابری مسجد کی جگہ مندر بنانا، مقبوضہ کشمیر کو ختم کرکے بھارت کا حصہ بنانا اور اب کہتا ہے کہ اکھنڈ بھارت بھی کرکے دکھاؤں گا۔

امیرجماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ انتہا پسند بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا آئین اور جھنڈا ختم کردیا ہے، کشمیرکی حیثیت ختم کردی گئی اور وہاں اردو زبان پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، ریڈیو کا نام بھی انڈیا ریڈیو سرینگر نام رکھ دیا گیا،  بھارتی قابض فوج مظلوم کشمیریوں کو نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دیتی، لیکن ہمارے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگ اندھے گونگے اور بہرے ہیں انہیں اپنے مفادات عزیز ہیں، وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا ہر جمعہ کے روزکو آدھا گھنٹہ احتجاج کریں گے لیکن وہ اب اسے بھی بھول گئے، جن لوگوں کو بے بس کردیا گیا ہے وہ ان ایوان میں بیٹھے لوگوں کو دیکھ رہے ہیں۔

سراج الحق نے کہا کہ آج کشمیریوں کی حمایت میں اسلام آباد میں لاکھوں افراد کھڑے ہیں، پاکستانی عوام نے مایوسیوں اور نا امیدی کے اس دور میں کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کرکے امید کی شمع روش کی ہے، کشمیریوں کے قاتل کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کشمیر پاکستان کا اور پاکستان کشمیریوں کا ہے، کشمیر تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2019 Urdu News. All Rights Reserved