کابینہ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط اجازت دے دی

کابینہ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط اجازت دے دی

 03:05 pm  

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کی منظوری دے دی ہے۔ 

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ، جس میں وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دے دی ہے،نوازشریف کو ملک سے باہر جانے کے لیے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانا ہوگا، سیکیورٹی بانڈز جمع

ہونے پر ذیلی کمیٹی نوازشریف کانام ای سی ایل سے نکالنے کی سفارش کرے گی۔ وفاقی کابینہ کی مشروط منظوری کےبعد ذیلی کمیٹی کی سفارش کومزید منظوری کی ضرورت نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور زلفی بخاری کے علاوہ کسی نے نوازشریف کے باہر جانے کی مخالفت نہیں کی۔ ندیم افضل چن نے علاج کے لئے نوازشریف کے باہر جانے کی حمایت کی۔ چند اراکین نے کہا کہ نوازشریف کیش کی صورت میں سیکیورٹی جمع کروائیں۔ ایک وزیر نے کہا کہ 800 ملین امریکی ڈالر اور لندن کے فلیٹس کی زرضمانت دی جائے۔

کابینہ اجلاس سے قبل وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس ہوا۔ جس میں معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر، نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹرعدنان اور نمائندہ شہباز شریف عطا تارڑ نے شرکت کی۔ ذیلی کمیٹی کو ‏سیکرٹری صحت اور سربراہ میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کی صحت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ پنجاب حکومت کا مؤقف تھا کہ نواز شریف کی حالت تشویش ناک ہے، انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے جب کہ نیب نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کردی۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے نواز شریف کے وکلاء سے ان کی واپسی کی تاریخ مانگ لی، اس کے علاوہ کمیٹی نے کہا ہے کہ  نوازشریف کی وطن واپسی کی ضمانت کے طور پر کچھ اثاثے بھی رکھیں، رات ساڑھے نو بجے کے اجلاس میں نوازشریف کے وکلاء کمیٹی کو جواب دیں گے۔

اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کامعاملہ پیچیدہ ہے، فریقین مکمل دستاویزات نہیں لائے جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی، نیب حکام کو بہت سی دستاویزات ساتھ لانے کو کہا تھا، اس کے علاوہ درخواست گزار اور ان کے وکلا کو بھی دستاویزات لانے کا کہا ہے، کابینہ کی ذیلی کمیٹی میرٹ پر فیصلہ کرے گی

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2019 Urdu News. All Rights Reserved