ذہین طالب علم نے اپنے بونس نمبر ’عطیہ‘ کردیئے

ذہین طالب علم نے اپنے بونس نمبر ’عطیہ‘ کردیئے

 06:33 pm  

کنٹکی: ’’اگر ممکن ہو، تو کیا آپ میرے اعزازی (بونس) نمبر سب سے کم اسکور کرنے والے کسی طالب علم کو دے سکتے ہیں؟‘‘ یہ سوال امریکی ریاست کنٹکی کے کسی ہائی اسکول میں ایک ذہین طالب علم نے امتحانی پرچے کے اختتام پر اپنے استاد کے لیے لکھا۔

کنٹکی کے ایک ہائی اسکول میں تاریخ کے استاد ونسٹن لی نے سوشل میڈیا پر اپنا یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے شاگردوں میں ایک ذہین طالب علم نے امتحانی پرچہ مکمل کرنے کے بعد یہ جملہ لکھا۔ ’’اگرچہ وہ 100 میں سے 99 نمبر حاصل کرچکا تھا لیکن میں نے ان میں سے 5 نمبر ایک ایسی طالبہ کو دے دیئے جس نے امتحان میں سب سے کم نمبر حاصل کیے تھے،‘‘ ونسٹن نے کہا۔

امتحان میں کامیاب ہونے کےلیے 60 نمبر درکار تھے لیکن اس طالبہ نے 58 نمبر حاصل کیے تھے۔ اضافی 5 نمبر ملنے کے بعد وہ 63 نمبروں سے پاس ہوگئی۔ وہ حیران تھی کہ آخر کس ’’سخی‘‘ نے اسے 5 نمبر دے کر امتحان میں کامیاب کروایا۔

99 فیصد نمبر حاصل کرنے والے طالب علم کی جانب سے 5 نمبر ’’عطیہ‘‘ کرنے کی درخواست قبول کرنے کے بارے میں ونسٹن لی نے سوال کیا کہ کیا ہمدردی، رحمدلی اور محبت کا مظاہرہ کرنا کوئی غلط عمل ہے؟

پہلے سوشل میڈیا اور بعد ازاں مختلف ویب سائٹس پر یہ واقعہ مشہور ہونے کے بعد کئی طرح کے ردِعمل سامنے آئے۔ کچھ لوگوں نے ونسٹن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اضافی نمبر کسی ضرورت مند طالب علم کو دینے کی درخواست قبول کرکے انہوں نے انسان دوستی کا ثبوت دیا ہے۔

بعض لوگوں نے کہا کہ اگرچہ یہ اچھا عمل تھا لیکن اسے معمول نہیں بننا چاہیے کیونکہ اس طرح کم محنت کرنے والے طالب علموں کو دوسروں سے نمبروں کا عطیہ لینے کی عادت بھی پڑ سکتی ہے۔

سب سے سخت ردِعمل اُن لوگوں کی جانب سے تھا جو تعلیم و تدریس میں نظم و ضبط کے شدت سے قائل تھے۔ ان کا کہنا تھا طالب علم کی درخواست پر اضافی نمبر کسی دوسرے شاگرد کو دے کر ونسٹن نے تدریسی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے جس پر ان سے جواب طلبی ہونی چاہیے۔

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2019 Urdu News. All Rights Reserved