شوہروں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خواتین کی یادگار

شوہروں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خواتین کی یادگار

 07:39 pm  

استنبول: ترکی کے ایک آرٹسٹ نے 2018ء میں اپنے شوہروں کے ہاتھوں قتل ہونے والی 440 خواتین کی یادگار بنائی ہے جس میں ایک عمارت کی بلند دیوار پر اونچی ایڑی والی 440 سینڈلیں نصب کی گئی ہیں۔

س یادگار کے خالق وحیت تیونا ہیں جو آرٹسٹ اور گرافک ڈیزائنر ہیں۔ انہیں اس یادگار کے لیے ترکی میں کافی شاپس کی سب سے بڑی چین ’’کافی دنیاسی‘‘ کے آرٹ پلیٹ فارم ’’یانکوزی‘‘ نے استنبول میں جگہ اور فنڈز فراہم کیے ہیں۔

 

 

وحیت تیونا کہتے ہیں کہ ترکی سمیت ساری دنیا میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں جن میں سے کئی مواقع پر خواتین کو قتل کردیا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ قتل کی ایسی وارداتوں میں زیادہ تر ان کے قریبی رشتہ دار اور شوہر تک ملوث ہوتے ہیں۔

’’جب بھی ایسا کوئی واقعہ منظرِ عام پر آتا ہے تو مجھے واٹس ایپ پر لگاتار کئی پیغامات موصول ہوتے ہیں لیکن کچھ ہی دنوں میں لوگ اسے بھول جاتے ہیں اور نئی خبروں کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں،‘‘ وحیت نے بتایا۔

وہ چاہتے تھے کہ ان عورتوں کو یاد رکھا جائے؛ اور اسی لیے انہوں نے ایک آرٹ پروجیکٹ کے بارے میں سوچا جو لوگوں کو اِن مقتولہ خواتین کی یاد دلاتا رہے۔ خوش قسمتی سے ’’یانکوزی‘‘ کے ذمہ داران کو یہ خیال پسند آگیا۔

 

کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کہ اس یادگار میں نصب کی گئی ساری سینڈلیں اونچی ایڑی والی ہیں جبکہ بیشتر خواتین سادہ چپلیں اور جوتے پہنتی ہیں۔ اس اعتراض کے جواب میں وحیت تیونا کہتے ہیں کہ اونچی سینڈلوں کا مقصد جمالیاتی حسن کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے جو گزشتہ سال اپنے شوہروں کے ہاتھوں قتل کردی گئیں۔

 

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2017ء کے دوران دنیا بھر اندازاً 87000 خواتین کو جان بوجھ کر موت کے گھاٹ اتارا گیا جن میں سے کم از کم 50 ہزار خواتین اپنے ہی جیون ساتھی یا گھر والوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ علاوہ ازیں، ان میں سے بھی 30 ہزار خواتین ایسی تھیں جنہیں ان کے حالیہ یا سابقہ شوہروں نے قتل کیا۔

ان خطرناک اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج، یعنی اکیسویں صدی کے جدید دور میں بھی، ہر روز 187 خواتین اپنے ہی پیاروں، رشتہ داروں اور جیون ساتھی کے ہاتھوں قتل ہورہی ہیں۔ یہ واقعات موجودہ انسانی ترقی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں؛ اور وحیت تیونا کی بنائی ہوئی یہ یادگار، اسی بارے میں ایک خاموش صدائے احتجاج ہے۔

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2019 Urdu News. All Rights Reserved