Home    Health

صحت
ٹی بی کی تجرباتی ویکسین میں اہم پیش رفت
ٹی بی کی تجرباتی ویکسین میں اہم پیش رفت

سوئزرلینڈ: ٹی بی (تپِ دق) کا مرض پوری دنیا کے لیے ایک وبا بنا ہوا ہے۔ اب اس ضمن میں ایک ویکسین تیار کی گئی ہے جس کے انسانوں پر اچھے اثرات برآمد ہوئے ہیں۔ اگر لوگوں کی بڑی تعداد پر کی گئی آزمائش سے مزید مثبت نتائج نکلتے ہیں تو ایک خوفناک جان لیوا مرض سے بچنا ممکن ہوجائے گا۔ پوری دنیا میں ٹی بی ہلاکت خیز 10 بڑی بیماریوں میں شامل ہے اور گزشتہ برس 15 لاکھ سے زائد افراد کی جان لے چکی ہے۔ اس ضمن میں بچوں کے تحفظ کے لیے بی سی جی ویکسین دی جاتی ہے لیکن اب تک بڑوں کے لیے ویکسین موجود نہ تھی۔اس ویکسین کو M72/AS01E کا نام دیا گیا ہے جسے گلیکسو اسمتھ کلائن نے ایرس نامی ادارے کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ کینیا، زیمبیا اور جنوبی افریقہ کے 3575 افراد پر اس کی آزمائش کی گئی ہے۔ ان تمام افراد میں ٹی بی کے جراثیم موجود تھے جنہیں امنیاتی قدرتی نظام نے بے اثر کردیا تھا اور مرض پیدا کرنے سے قاصر تھے۔ اس کیفیت کو انگریزی میں لیٹنٹ ٹیوبرکلوسِس کہا جاتا ہے۔ تمام افراد کو دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا اور جن میں سے نصف کو ویکسین اور بقیہ آدھے افراد کو فرضی دوا ’پلے سیبو‘ دی گئی۔

وہ 8 جسمانی کیفیات جو آپ کے ہونٹوں سے ظاہر ہوتی ہیں
وہ 8 جسمانی کیفیات جو آپ کے ہونٹوں سے ظاہر ہوتی ہیں

 لندن: انسانی ہونٹوں کو جسم کا تھرمامیٹر بھی کہا جاتا ہے لیکن چہرے پر خوبصورتی کی وجہ بننے والے ہونٹ بہت سی جسمانی کیفیات کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ ان میں خرابی صحت کی وجہ بننے والی کیفیات بھی شامل ہیں۔ تاہم مشورہ یہ ہے کہ ضروری نہیں ہونٹوں کی کیفیات عین اسی بیماری یا جسمانی خرابی کو ظاہر کرتی ہوں اور اس کا حتمی فیصلہ مستند ڈاکٹر ہی کرسکتا ہے۔ ہونٹوں کے پھٹے کنارے   ہونٹوں کے دائیں اور بائیں جانب اگر ہونٹ پھٹے ہوئے ہوں اور ان میں تھوک جمع ہوجاتا ہو تو بار بار آپ وہاں زبان پھیرکر اسے ترکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اگر یہ کیفیت مسلسل برقرار رہے تو کسی جسمانی انفیکشن کی وجہ بھی ہوسکتی ہے۔ خشک اور پھٹے ہوئے ہونٹہونٹوں کے خشک ہونے کی اہم وجہ یہ ہے کہ یہ بدن میں پانی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح پانی کا استعمال بڑھا کر آپ ہونٹوں کی خشکی اور پھٹے ہونٹوں کو درست کرسکتے ہیں۔

خلیوں میں آکسیجن کا احساس دریافت کرنے پر میڈیسن کا نوبل انعام
خلیوں میں آکسیجن کا احساس دریافت کرنے پر میڈیسن کا نوبل انعام

اسٹاک ہوم: اس سال طب/ فعلیات یعنی میڈیسن/ فزیالوجی کا نوبل انعام تین سائنسدانوں کو مشترکہ طور پر دیا جارہا ہے جنہوں نے یہ دریافت کیا کہ خلیے کس طرح آکسیجن کو محسوس کرتے ہیں اور خود کو آکسیجن کی دستیابی کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ ان سائنسدانوں میں امریکا کے ولیم جی کیلن جونیئر اور گریگ سیمینزا کے علاوہ برطانیہ کے سر پیٹر جے ریٹکلف شامل ہیں۔ اس سال ہر کٹیگری میں نوبل انعام کی رقم 80 لاکھ سویڈش کرونا رکھی گئی ہے جو تقریباً 17 کروڑ پاکستانی روپوں کے مساوی بنتی ہے۔اس دنیا میں تمام جانداروں کو آکسیجن کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہمیں آکسیجن نہ ملے تو صرف چند منٹوں میں ہماری زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔ لیکن آکسیجن کی اس ضرورت کو صرف ہم ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ ہمارے اور دوسرے جانوروں کے خلیے بھی آکسیجن کی کمی یا زیادتی کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے دیکھتے ہوئے وہ اپنے اندر تبدیلیاں لے آتے ہیں تاکہ اپنے بقاء کے امکانات کو بہتر بناسکیں۔

بہرے پن کی وجہ بننے والے 44 جین دریافت بہرے پن کی وجہ بننے والے 44 جین دریافت
بہرے پن کی وجہ بننے والے 44 جین دریافت بہرے پن کی وجہ بننے والے 44 جین دریافت

 لندن: سماعت میں کمی اور اس سے محرومی کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں اور اس ضمن میں ماہرین نے 44 ایسے نئے جین دریافت کیے ہیں جو ثقلِ سماعت کی وجہ بن سکتے ہیں یا مکمل بہرے پن میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس دریافت سے توقع ہے کہ سماعت سے محرومی کے علاج میں بھی مدد مل سکے گی اور ہم بہرے پن کو مزید اچھی طرح سمجھ سکیں گے۔ کنگز کالج لندن اور یونیورسٹی کالج آف لندن کے ماہرین نے اس تحقیق میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کی تفصیلات امریکن جرنل آف ہیومن جینیٹکس میں شائع ہوئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا کہ 44 جین ایسے ہیں جو عمر رسیدگی کے ساتھ ساتھ ثقلِ سماعت میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیق کے لیے دونوں جامعات کے ماہرین نے 40 سے 69 سال تک کے ڈھائی لاکھ افراد کا ڈیٹا بیس حاصل کیا اور ان کا جینیاتی مطالعہ کیا۔ ان میں مکمل طور پر سماعت سے محروم اور ثقلِ سماعت کے بہت سے افراد شامل تھے۔ ماہرین نے مکمل تجزیئے کے بعد 44 جین معلوم کرلیے ہیں۔65 سال کی عمر کے بعد سے اکثر افراد کی سماعت میں خلل واقع ہوتا ہے۔ اس سے بوڑھے افراد لوگوں کی بات نہ سننے کی وجہ سے سماجی تنہائی اور یاسیت کے شکار ہوجاتے ہیں جس سے


تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2019 Urdu News. All Rights Reserved