یوم آزادی، کشمیری اور بھارتی مسلمانوں پر بھاری

یوم آزادی، کشمیری اور بھارتی مسلمانوں پر بھاری

یوم آزادی یوں تو 72سال سے مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں اور بھارت کے مسلمانوں پر بھاری رہا ہے بھارت میں رہنے والے مسلمان ایک مدت تک بیرون ملک جاتے تھے تو یہ گلہ کرتے تھے کہ آپ کی وجہ سے ہم پر افتاد آتی ہے اور وہ ہندوئوں سے زیادہ پاکستان کی مخالفت کرتے تھے۔اس صورتحال کے پیش نظر حکومت پاکستان نے نہرو لیاقت معاہدے میں درج کئی باتوں کو دہرانا ہی چھوڑ دیا جس میں بھارتی حکومت پر بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کی حفاظت،ان کی فلاح و بہبود کے اقدامات شرط کے طور پر شامل تھے

غلامی کے مسئلے پر ایک نظر

غلامی کے مسئلے پر ایک نظر

  غلامی کا رواج قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ بعض انسانوں کو اس طور پر غلام بنا لیا جاتا تھا کہ وہ اپنے مالکوں کی خدمت پر مامور ہوتے تھے، ان کی خرید و فروخت ہوتی تھی، انہیں آزاد لوگوں کے برابر حقوق حاصل نہیں ہوتے تھے اور اکثر اوقات ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ جدید دنیا میں بھی ایک عرصے تک غلامی کا رواج رہا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں، جسے جدید دنیا کی علامت کہا جاتا ہے، غلامی کو باقاعدہ ایک منظم کاروبار کی حیثیت حاصل تھی۔ افریقہ سے بحری جہازوں میں ہزاروں افراد کو بھر کر لایا جاتا تھا اور امریکہ کی منڈیوں میں فروخت کر دیا جاتا تھا۔ غلامی کے جواز اور عدم جواز پر امریکی دانشوروں میں صدیوں تک بحث جاری رہی حتی کہ شمال اور جنوب کی تاریخی خانہ جنگی کے اسباب میں بھی ایک اہم مسئلہ غلامی کا تھا۔ یہاں تک کہ 1865 ء میں امریکہ میں قانونی طور پر غلامی کے خاتمہ کا فیصلہ کیا گیا۔ برازیل میں 1888 ء میں غلامی کو ممنوع قرار دیا گیا۔ نیپال نے 1926 ء میں غلامی کے خاتمے کا اعلان کیا اور 1949 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا بھر میں غلامی کی مکمل ممانعت کا اعلان کیا جس کے بعد اب دنیا میں غلامی کی کوئی صورت قانونی طور پر باقی نہیں رہی۔    

عمران خان کا شیخ رشید اور ریلوے

عمران خان کا شیخ رشید اور ریلوے

  شیخ رشید احمد اپنی باتوں سے عمران خان کا دل لبھاتے ہیں اس لئے اب ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کون کرے؟ جنوری 2017ء میں ریلوے کو ایک حادثہ پیش آیا تو تب ایک ’’عمران خان‘‘ ہوا کرتے تھے کہ جنہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’دنیا میں کہیں بھی ریل کا حادثہ ہو تو وزیر ریلوے استعفیٰ دیتا ہے‘ اگر وہ استعفیٰ نہ دے تو پھر اس کے ہوتے ہوئے صحیح معنوں میں حادثے کی تحقیقات نہیں ہوسکتیں‘‘ جنوری 2017ء اور جولائی 2019ء والے عمران خان میں بس اتنی سی تبدیلی آئی ہے کہ ریلوے کو حادثے تو اب بھی پیش آرہے ہیں مگر عمران خان نے وزیر ریلوے سے مستعفی ہونے کے مطالبے کرنا چھوڑ دئیے ہیں۔    

وادی نیلم پر قیامت!

وادی نیلم پر قیامت!

٭وادی نیلم پر قیامت، لاکھوں من پانی اچانک برس پڑا، 28 سے زیادہ افراد جاں بحق، بے شمار مکانات، دکانیں، مساجد، گاڑیاں، موٹر سائیکل، مویشی بہہ گئے!O شہبازشریف کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہO پنجاب اسمبلی، سوا گھنٹہ ہنگامہ کے بعد اجلاس ختم۔ ایک کروڑ9 لاکھ کے اخراجات O نوشی گیلانی اور مریم نواز میں مذاکرہ O تھر کے صحرا میں مٹی کا طوفان، بستیاں گرد میں چھپ گئیں۔  

نیٹوکاکڑاامتحان

نیٹوکاکڑاامتحان

اٹلانٹک کے اردگردپھیلے ملکوں کااتحادایک بارپھر اپنایوم پیدائش منارہاہے سردجنگ سے لے کرآج تک ان چالیس سالوں میں اس اتحادنے یورپ میں امن کو یقینی بنایاہے اور سکیولر ازم کوتحفظ فراہم کیاہے سویت یونین جب بکھررہاتھااس وقت نیٹواتحادنے ہی یورپ کومستحکم رکھتے ہوئے بے مثال خوشحالی اورامن کویقینی بنایا۔نیٹوکے سابق برطانوی ایمبیسٹر،لندن تھنک ٹینک اوریورپین لیڈرشپ نیٹورک کے موجودہ ممبرسرآدم تھامس کے مطابق یہ اتحادایک پرعزم ومستحکم ارادے کوظاہرکرتاہے اٹلانٹک ملکوں کایہ اتحادیورپ میں بے مثال امن واستحکام کی وجہ سے مطمئن اورخوش ہے، یورپی ممالک امن وخوشحالی کیلئے نیٹوکے کردارکواہم گردانتے ہیں اورنیٹوکواک نعمت کے طورپرسمجھاجانا چا ہیے۔    یہ اتحاداب پہلے سے زیادہ مضبوط ہے بہت جلد نیٹو کے 30ارکان ہوں گے اوریہ930ملین لوگوں کی سرحدی حفاظت کاذمہ دارہوگا۔نیٹوممالک کے پاس دنیاکی نصف جی ڈی پی ہے جبکہ ان کے دفاعی اخراجات 55فیصدہیں۔پچھلے سال کانفرنس میں نیٹوممالک کے پاس کرنے کے کام کی ایک لمبی لسٹ موجودتھی اوریہ اتحادنئے مراکزکھولنے کیلئے بھی پرجوش ہے۔

 سفارتی دکھاوے اور بھارتی عزائم 

 سفارتی دکھاوے اور بھارتی عزائم 

      کیا ہونے جا رہا ہے ؟ یہ سوال اکثر احباب پوچھتے ہیں ! بھارت سے تعلقات کا معاملہ ہی دیکھ لیجیے یہ کسی گھن چکر سے کم نہیں ۔ دو خبریں شائع ہوئی ہیں ۔ دونوں مختلف رنگ اور تاثر قائم کر رہی ہیں۔ پہلی خبر مثبت ہے کہ کرتار پور راہداری پر پاک بھارت مذاکرات کامیابی سے  منعقد ہوئے۔ لگتا ہے کہ دونوں ملکوں میں کشیدگی کم ہو گی اور امن کی فضا بنے گی ۔ کہاں الیکشن سے پہلے بھارتی حکومت پر جنگ کا جنون طاری تھا ۔ لگتا تھا کہ پردھان منتری مودی کا جنگجو جتھہ الیکشن جیتنے کے لیے پاکستان پر حملہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا ۔ پلوامہ حملے سے بالا کوٹ سرجیکل سٹر ا ئیک  اور دو طیاروں کی تباہی تک کی کہانی دہرانے کی ضرورت نہیں ۔ جنگ کے میدان میں منہ توڑ جواب وصول فرما کر مودی سرکار کی طبیعت تو صاف ہوئی لیکن نیت کا کھوٹ اور بڑھ گیا ۔ زبانی کلامی جنگ سے وہ باز نہیں آئے ۔ ہر جلسے ، ریلی اور انٹرویو میں پاکستان کے خلاف جنگی جنون کو ہوا دی۔ عوام کے ذہنوں میں پاکستان کا ہوا کھڑا کر کے شریمان مودی کو بھارت کا  بہادر جنگجو بنا کے پیش کیا گیا ۔     

ایک عظیم امریکی روز پیرٹ سینئر کی یاد میں 

ایک عظیم امریکی روز پیرٹ سینئر کی یاد میں 

ڈیلاس میں روز پیرٹ سینئر 89برس کی عمر میں کینسر کے خلاف جنگ ہار گئے، زندگی سے بھرپور اس شخص کی موت کی خبر سے شدید صدمہ ہوا۔ ان کے صاحبزادے روز پیروٹ جونیئر راقم کے بہترین دوستوں میں شامل ہیں۔  روز پیرٹ نے 1930ء میں ٹیکساس میں آنکھ کھولی۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ شدید مالیاتی بحران سے دوچار تھا اور ان حالات میں روز پیرٹ اپنے بل پر ارب پتی بنے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اسی ’’امیریکن ڈریم‘‘ میں زندہ رہے، جو خواب اپنی قسمت بنانے کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر امریکہ کا رخ کرنے والوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے۔ سات برس کی عمر میں وہ صبح سویرے اسکول جانے سے پہلے اخبارات تقسیم کرنے کا کام کرتے رہے۔ 1953ء میں گریجویشن کے بعد امریکی نیوی سے منسلک ہوئے اور پانچ برس تک خدمات انجام دیں اور یہیں پہلی بار کمپیوٹر سیکھا۔ یہاں سے ان کی دلچسپی اس شعبے میں پیدا ہوئی اور بعدازاں انہوں نے ڈیٹا پراسیسنگ کی دو بڑی کمپنیاں قائم کیں جنہیں 1990ء کی دہائی میں اچھے منافعے پر فروخت کردیا۔ 1957ء  میں امریکی بحریہ سے سبک دوش ہوکر روز پیرٹ نے بطور سیلز مین آئی بی ایم میں ملازمت اختیار کرلی۔ سی ای او آئی بی ایم کو جب معلوم ہوا کہ فروخت پر ملنے والے کمیشن کی وجہ سے  اس سلیز مین کی آمدن اس سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے تو اگلے برس پیرٹ کی آمدن کو ایک خاص حد تک رکھنے کے لیے ضوابط تبدیل کردیے گئے۔   

اک ریل کےسفر کی تصویرکھینچتا ہوں 

اک ریل کےسفر کی تصویرکھینچتا ہوں 

ساڑھے تین سو کلومیٹر کی رفتار سے ہماری ریل کار  بیجنگ سے ہانگ زو  کی طرف جارہی تھی، میری سیٹ کےسامنے  لگی ہوئی ٹرے پر رکھا ہواکافی کا کپ بالکل  ایسے ساکن تھاجیسا زمین پر پڑی میز  پر ،اکثر مسافر کتاب پڑھ رہے تھےیا پھر اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرتے نظر آ رہے تھے۔ٹریک کےاطراف  خوبصورت اور لش گرین گھنے درخت  قطار اندر قطار  پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے۔ شام کاعجیب سہانامنظر تھا ، میں اس  میں کھویا ہوا تھا مجھے جنگل کی شہزادی اور اس کے شاعر جوش ملیح آبادی یاد آ رہے تھے۔پیوست ہے جو دل میں وہ تیر کھینچتاہوں اک ریل کےسفر کی تصویر کھینچتاہوں گاڑی میں گنگناتا مسرور جارہا تھااجمیر کی طرف سے جے پورجارہا تھاتیزی سےجنگلوں میں یوں ریل جا رہی تھی لیلیٰ ستاراپنا  گویا  بجا رہی تھی  میں نے دوسری سیٹ پر بیٹھے مظہر برلاس اور کومل سلیم کو دیکھا،آنکھیں بند کیں اور ایک بار پھر جنگل کی  شہزدی میں کھو گیا۔تھوڑی دیر بعد  آنکھ کھولی  اور ڈاکٹر صغریٰ صدف کومتوجہ کیااور انہیں حضرت جوش اور انکی جنگل کی شہزادی یاد کرائی،پلاک  کی روح رواں صغریٰ صدف خود بہت اچھی شاعر ہیں۔اسی اثنا میں اچانک میرے ساتھ بیٹھے ملک سلمان نے یہ کہ کرمیرے رومانس کا ستیا ناس کر دیا کہ گورایہ صاحب چینی ریلوے ہماری ریلوے سے بہت بہتر کیوں ہے؟ پاکستان ریلوے  کے ساتھ ہی میرے ذہن میں ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید  آگئے۔کہاں جوش ملیح آبادی،جنگل کی شہزادی اور کہاں شیخ رشید کا تصور،میں نےکہا جانےوالی نظروں سے ملک سلمان کو دیکھا ،پھر  میرے ذہن میں  پاکستان ریلوے کےنہایت اچھےسیکرٹری سلطان سکندر راجہ اور ڈائریکٹر منسٹر آفس علی نوازآگئے  اور میں نے پہلا خیال جھٹک کر دونوں ملکوں کی ریلوے کا موازنہ شروع کر دیا ۔  

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2019 Urdu News. All Rights Reserved