درجنوں عام دواؤں میں سرطان کے خلاف تاثیر دریافت

درجنوں عام دواؤں میں سرطان کے خلاف تاثیر دریافت

ارورڈ: ایک نئے مطالعے سے لگ بھگ 50 سے زائد ایسی دواؤں میں کینسر کے خلاف علاج کی خاصیت دریافت ہوئی ہیں جو کینسر کے علاج کے لیے نہیں بنائی گئی تھیں۔ ان دواؤں میں ذیابیطس، اندرونی جلن، شراب نوشی چھڑانے اور یہاں تک کہ پالتو کتوں کی ہڈیوں کے علاج کی دوائیں بھی شامل ہیں۔ لیکن ان سب میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان پرانی دواؤں میں سرطان ختم یا کم کرنے کی کم یا زیادہ صلاحیت موجود ہے۔

خشک آنکھ کو نم رکھنے والا کانٹیکٹ لینس تیار

خشک آنکھ کو نم رکھنے والا کانٹیکٹ لینس تیار

ٹوکیو: دنیا میں ہزاروں لاکھوں افراد آنکھ کے ایک عارضے میں مبتلا ہیں جس میں آنکھوں سے نمی کی مقدار کم بنتی ہےاور خشک آنکھوں کی وجہ سے بار بار آنکھوں میں قطرے ٹپکانا پڑتے ہیں۔ لیکن اب آنکھوں کو مسلسل نم رکھنے والے جدید کانٹیکٹ لینس بنائے گئے ہیں جو مسلسل نمی خارج کرکے آنکھوں کی خشکی سے بچاتے ہیں اور بار بار آنکھوں میں قطرے ٹپکانے کی ضرورت نہیں رہتی ۔

 کم مقدار میں اسپرین کا استعمال قبل از وقت پیدائش سے بچاتا ہے، تحقیق

کم مقدار میں اسپرین کا استعمال قبل از وقت پیدائش سے بچاتا ہے، تحقیق

کینبرا: کم آمدنی والے چھ ممالک میں کی گئی ایک تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ پہلی بار ماں بننے والی خواتین اگر روزانہ تھوڑی سی مقدار میں اسپرین بھی لے لیا کریں تو اس سے بچے کی قبل از وقت پیدائش سے بچا جاسکتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران کونگو، گوئٹے مالا، ہندوستان، کینیا، پاکستان اور زیمبیا میں مجموعی طور پر ایسی 12 ہزار خواتین کو مطالعے میں شریک کیا گیا جو پہلی بار ماں بننے جارہی تھیں۔ یہ تو معلوم نہیں کہ اسپرین اس معاملے میں کس طرح عمل کرتی ہے لیکن اتنا ضرور ثابت ہوچکا ہے کہ اسپرین استعمال کرنے والی وہ خواتین جو پہلی بار حاملہ ہوئی تھیں، ان میں بچے کی قبل از وقت پیدائش کے امکانات 11 فیصد تک کم رہ گئے جبکہ حمل کے 34 ویں ہفتے سے پہلے زچگی (ڈیلیوری) کے امکانات 25 فیصد تک کم ہوگئے۔

 ہلدی بنی سونا: اب کھلاڑیوں اور ایتھلیٹ کے لیے بھی مفید قرار

ہلدی بنی سونا: اب کھلاڑیوں اور ایتھلیٹ کے لیے بھی مفید قرار

کیمبرج: ہلدی کو مغرب میں اب پیار سے خالص سونا کا نام دیا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں موجود جادوئی مرکب ’سرکیومن‘ بلڈ پریشر، کینسر، امراضِ قلب ، جوڑوں کے درد میں انتہائی مفید تصور کیا جاتا رہا ہے۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ کھلاڑیوں اور ایتھلیٹ کی صلاحیت بڑھانے میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں۔ لیکن اب بھی ایک سوال سب سے اہم ہے کہ سرکیومن جسم کے اندار آسانی سے جذب نہیں ہوتا۔ اسی بنا پر کیمبرج یونیورسٹی کے ممتاز ماہرین نے ٹرمرک سی فارمولہ بنایا ہے جو جسم کے اندر سرکیومن کو انجذاب کو 30 گنا بڑھاتا ہے۔ اس فارمولے میں وٹامن سی شامل کیا گیا ہے جو خون میں سرکیومن جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

کرونا وائرس ہے کیا؟ 10 بنیادی سوالات کے جوابات

کرونا وائرس ہے کیا؟ 10 بنیادی سوالات کے جوابات

 کراچی: چین میں کرونا وائرس کے انسانی حملے کے بعد دنیا بھر میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ یہ وائرس انسانی سانس کے نظام پر حملہ آور ہوکر ہلاکت کی وجہ بن سکتا ہے اور اب تک دو درجن سے زائد افراد اس کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ کرونا وائرس کیا ہے؟

پانچ اخروٹ روزانہ، رکھیں پیٹ اور دل کو توانا!

پانچ اخروٹ روزانہ، رکھیں پیٹ اور دل کو توانا!

پنسلوانیا: یہ بات شاید آپ بھی جانتے ہوں کہ اخروٹ اور اس قسم کے دیگر خشک میوہ جات میں ایسے اجزاء ہوتے ہیں جو دماغ کو تقویت پہنچاتے ہیں، لیکن اب سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ روزانہ صرف 2 سے 3 اونس (5 سے 6) اخروٹ کھانے سے دل کو بھی افاقہ ہوتا ہے جبکہ آنتوں اور پیٹ کی حالت بھی اچھی رہتی ہے۔پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کالج آف ہیلتھ کے ماہرین نے اس سے پہلے ایک مطالعے میں دل اور بلڈ پریشر کے حوالے سے اخروٹ کے فوائد دریافت کیے تھے۔ اب اسی ٹیم نے اخروٹ پر تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ روزانہ اخروٹ کھانے سے ہمارے پیٹ، یعنی نظامِ ہاضمہ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

کم خرچ اور طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی ویکسین بنانے کا نیا طریقہ

کم خرچ اور طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی ویکسین بنانے کا نیا طریقہ

میکسیکو سٹی: میکسیکو سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے ویکسین بنانے کی ایک ایسی نئی تکنیک ایجاد کرلی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے کم خرچ ویکسین تیار کی جاسکے گی جو عام درجہ حرارت پر لمبے عرصے تک محفوظ بھی رہ سکے گی۔ اس وقت ویکسینز کے ساتھ دوسرے گوناگوں مسائل کے علاوہ ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں بہت ہی سرد ماحول میں محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اگر ان کی ٹھنڈک کم ہوجائے یا ان میں اضافی گرمی داخل ہوجائے تو ویکسین بھی چند دن سے لے کر صرف چند مہینوں ہی میں اپنی افادیت سے محروم ہوجاتی ہے جس کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان کی وجہ بن سکتا ہے۔ ویکسین کا مہنگا ہونا اپنی جگہ ایک اور حل طلب معاملہ ہے۔

انسانوں میں دریافت شدہ نئے خلیات سے مختلف کینسرکا قلع قمع ممکن

انسانوں میں دریافت شدہ نئے خلیات سے مختلف کینسرکا قلع قمع ممکن

 لندن: انسانی جسم میں خاص طرح کے امنیاتی خلیات (ٹی سیلز) دریافت ہوئے ہیں جو کئی اقسام کے سرطان کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، سائنس دانوں کے مطابق یہ کئی طرح کے کینسر کو نشانہ بناسکتا ہے۔ سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے مشترکہ طور پر نیا امنیاتی خلیہ دریافت کیا ہے۔ اس سے قبل سی اے آر ٹی امیونو تھراپی بھی ایک اہم کارنامہ تھا جس میں کسی بھی مریض کے مرض کو دیکھتے ہوئے ذاتی طور پر علاج تجویز کیا جاتا ہے۔ اس میں کینسر کے مریض کے جسم سے امنیاتی خلیات لے کر ان سے علاج کیا جاتا ہے جسے امیونو تھراپی کا نام دیا گیا ہے۔لیکن سی اے آر ٹی امیونو تھراپی میں ایک خرابی یہ ہے کہ اس سے ہر طرح کے کینسرکا علاج ممکن نہیں، دوم یہ بہت وقت طلب اور مضر ضمنی اثرات والا علاج بھی ہے

دل کی بیماری اور فالج سے بچنا ہے تو چائے پیجیے

دل کی بیماری اور فالج سے بچنا ہے تو چائے پیجیے

بیجنگ: چین میں کی گئی دس سالہ تحقیق کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ لوگ جو ہفتے کے سات دنوں میں کم سے کم تین مرتبہ چائے پیتے ہیں، ان میں دل کی بیماریوں اور فالج کے امکانات بھی چائے نہ پینے والوں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔ چائے کے فائدوں میں اہم ترین کردار ’’پولی فینولز‘‘ قسم کے مرکبات کا ہوتا ہے جو سیاہ اور سبز چائے کے علاوہ دوسری غذاؤں میں بھی وافر پائے جاتے ہیں۔ بیجنگ میں واقع ’’چائنیز اکیڈمی آف بایولاجیکل سائنسز‘‘ کے تحت ایک لاکھ سے زیادہ صحت مند افراد پر 10 سال تک کی گئی اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ پورے ہفتے میں تین سے چار مرتبہ صرف ایک ایک کپ چائے پینے والوں میں دل کی بیماریوں اور فالج کا خطرہ ایسے افراد کی نسبت نمایاں طور پر کم تھا جو چائے نہیں پیتے۔

 یہ تین موبائل گیمز آپ کی یادداشت اور فکری لچک بڑھا سکتے ہیں!

یہ تین موبائل گیمز آپ کی یادداشت اور فکری لچک بڑھا سکتے ہیں!

کیلیفورنیا: تین ڈجیٹل گیمز ایسے ہیں جو بچوں اور بڑوں کی یادداشت، سوچنے کی قوت اور کسی کام پر ارتکاز یعنی فوکس کو بڑھا سکتے ہیں، اچھی بات یہ ہے کہ سائنس دانوں نے ان گیمز کی افادیت کے سائنسی ثبوت بھی فراہم کیے ہیں۔ یہ تمام گیم گوگل پلے اسٹور اور ایپل فون کے لیے بھی بالکل مفت میں دستیاب ہیں۔ گیم سازی میں دماغی ماہرین کو بطورِ خاص شامل کیا گیا ہے اور تینوں گیمز یادداشت بہتر کرسکتے ہیں، کام پر توجہ کو بہتر بناتے ہیں اور سوچنے کے عمل میں دماغی لچک کو جلا بخشتے ہیں۔ یہ تینوں گیمز کئی برس کی تحقیق کے بعد بنائے گئے ہیں جنہیں نیویارک یونیورسٹی میں ڈجیٹل میڈیا کے پروفیسر نے ڈیزائن کیا ہے۔

کیا الٹرا ساؤنڈ سے کینسر کا علاج بھی ہوسکے گا؟

کیا الٹرا ساؤنڈ سے کینسر کا علاج بھی ہوسکے گا؟

پیساڈینا، کیلیفورنیا: سائنسدانوں نے کم شدت والی الٹرا ساؤنڈ لہریں سرطان زدہ پھوڑوں (کینسر ٹیومر) پر مرکوز کرکے انہیں اس انداز سے ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ آس پاس کے صحت مند خلیوں کو کچھ بھی نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ الٹرا ساؤنڈ دراصل آواز ہی کی ایسی لہریں ہوتی ہیں جنہیں ہمارے کان نہیں سن سکتے۔ الٹرا ساؤنڈ سے کینسر ٹیومر کا خاتمہ بھی کوئی نہیں بات نہیں بلکہ یہ تکنیک بھی برسوں سے استعمال ہوتی آرہی ہے۔ البتہ، اب تک اس مقصد کےلیے زیادہ شدت والی الٹرا ساؤنڈ لہروں کو مرکوز (فوکس) کرکے استعمال کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے کینسر ٹیومر کے ساتھ ساتھ آس پاس کے صحت مند خلیے بھی تباہ ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کبھی کبھی مریض کو فائدہ ہونے کے بجائے اُلٹا نقصان ہی پہنچ جاتا ہے۔   اس ضمن میں الٹرا ساؤنڈ کو محفوظ تر بنانے کےلیے کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور سٹی آف ہوپ بیکمین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے مشترکہ تحقیق میں یہ دریافت کیا ہے کہ اگر زیادہ شدت کے بجائے کم شدت والی الٹرا ساؤنڈ لہریں استعمال کی جائیں تو اس سے صرف وہی خلیے تباہ ہوں گے کہ جنہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے خلیے بالکل محفوظ رہیں گے۔انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کم شدت والی الٹرا ساؤنڈ، صحت مند خلیوں کےلیے تو بے ضرر ہوتی ہے لیکن سرطانی رسولیوں (کینسر ٹیومرز) میں موجود خلیوں کو ان کی بعض اہم ظاہری

 عام گھریلو کیمیکل بچوں کی دماغی کمزوری کی وجہ قرار

عام گھریلو کیمیکل بچوں کی دماغی کمزوری کی وجہ قرار

نیویارک: ایک شائع شدہ رپورٹ کے مطابق بالخصوص امریکا اور یورپ کے گھروں میں عام استعمال ہونے والے کیمیکل نہ صرف بچوں کے آئی کیو (ذہانتی پیمائش) میں کمی کی وجہ بن رہے ہیں بلکہ کسی نہ کسی طرح ان کے دماغ اور اعصابی نظام کو بھی نقصان پہنچارہے ہیں۔ جرنل آف مالیکیولر اینڈروکرائنولوجی میں امریکہ میں سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اور دیگر اداروں کے ڈیٹا کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔ اس سروے میں ماں کی افزائشِ نسل کی عمر اور پانچ سال تک کے بچوں کے خون کےنمونے جمع کئے گئے ہیں۔

’’ڈینگی کے دُشمن‘‘ مچھر تیار کرلیے گئے

’’ڈینگی کے دُشمن‘‘ مچھر تیار کرلیے گئے

کیلیفورنیا: امریکا، آسٹریلیا اور تائیوان سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے مشترکہ تحقیق کرتے ہوئے ایسے مچھر تیار کرلیے ہیں جو ڈینگی وائرس سے متاثر نہیں ہوسکتے؛ اور نتیجتاً وہ ڈینگی پھیلانے کی وجہ بھی نہیں بنتے۔ یہ کارنامہ جدید جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے انجام دیا گیا ہے جس کے تحت ڈینگی پھیلانے والے ’’ایڈیز ایجپٹائی‘‘ مچھروں میں ایک خاص طرح کی اینٹی باڈی (ضد جسمیہ) بنانے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے۔ اس اینٹی باڈی کی بدولت یہ مچھر اس قابل ہوجاتے ہیں کہ ڈینگی وائرس نہ تو انہیں متاثر کرسکتے ہیں، نہ ان میں پروان چڑھ سکتے ہیں، اور نہ ہی ان کے ذریعے دوسرے مچھروں اور انسانوں تک پھیل سکتے ہیں۔

چوہوں پر ’یونیورسل فلو ویکسین‘ کے کامیاب تجربات

چوہوں پر ’یونیورسل فلو ویکسین‘ کے کامیاب تجربات

اٹلانٹا: امریکی ماہرین نے انفلوئنزا کی تمام اقسام کے خلاف مؤثر ’’یونیورسل فلو ویکسین‘‘ کے تجربات مزید آگے بڑھاتے ہوئے اسے چوہوں میں بھی بڑی کامیابی سے آزمایا ہے۔ ریسرچ جرنل ’’ایڈوانسڈ ہیلتھ کیئر مٹیریلز‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، یہ ویکسین دو طرح کے نینو ذرّات (نینو پارٹیکلز) پر مشتمل ہے جنہیں دو اہم انفلوئنزا پروٹینز سے تیار کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ’’میٹرکس پروٹین 2 ایکٹوڈومین‘‘ (ایم ٹو ای) جبکہ دوسرا ایک خامرہ (اینزائم) ہے جو ’’نیورامنیڈیز‘‘ (این اے) کہلاتا ہے۔  

جگر کو جسم سے باہر 7 دن تک محفوظ رکھنے والی مشین ایجاد

جگر کو جسم سے باہر 7 دن تک محفوظ رکھنے والی مشین ایجاد

زیورخ: سوئٹزرلینڈ کے ماہرین نے ایک ایسی مشین تیار کرلی ہے جو نہ صرف زخمی انسانی جگر کی مرمت کرسکتی ہے بلکہ اسے جسم سے باہر ایک ہفتے تک زندہ حالت میں محفوظ بھی رکھ سکتی ہے۔ اس طرح یہ مشین جگر کے علاج اور پیوند کاری کے میدان میں ایک نیا انقلاب برپا کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ جگر ہمارے جسم کا انتہائی اہم عضو ہے جسے ’’انسانی جسم کا ویئر ہاؤس‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ بہت حساس عضو بھی ہے جو انسانی جسم سے نکالے جانے کے بعد صرف چند گھنٹوں تک ہی زندہ حالت میں محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک جگر کے عطیات اور پیوند کاری جیسے شعبہ جات میں پیش رفت بہت سست رفتاری کا شکار ہے۔ انسانی جگر کو جسم سے باہر ایک ہفتے تک زندہ اور محفوظ حالت میں رکھنے کا براہِ راست مطلب یہ ہوا کہ آنے والے برسوں میں نہ صرف جگر کے زیادہ عطیات جمع ہوسکیں گے بلکہ اس سے جگر کے امراض میں مبتلا لاکھوں مریضوں کو ہر سال فائدہ ہوگا۔

این آئی سی وی ڈی کراچی میں ’ہس بنڈل پیسنگ‘ کے پہلے کامیاب تجربات

این آئی سی وی ڈی کراچی میں ’ہس بنڈل پیسنگ‘ کے پہلے کامیاب تجربات

 کراچی: قومی ادارہ برائے قلب ’این آئی سی وی ڈی‘ کے ماہرین نے پاکستان کی تاریخ میں ہس بنڈل پیسنگ کے کامیاب تجربات کیے ہیں، یہ کامیابی پاکستانی ماہرین کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس عمل میں برقی سگنل کو ہموار انداز میں خارج کرکے دھڑکن کو منظم کرنے والے پیس میکر کا تار دل کے اندر ایک خاص مقام پر لگایا جاتا ہے اس مقام کو ’ہس بنڈل‘ کہا جاتا ہے اور اس جگہ پیس میکر کے تار پہنچانے کا عمل ہس بنڈل پیسنگ کہلاتا ہے۔ ہس بنڈل پیسنگ کا عمل این آئی سی وی ڈی میں الیکٹرو فزیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر اعظم شفقت، نائب پروفیسر فیصل قادر نے امریکی جامعہ منی سوٹا سے وابستہ ڈاکٹر ریحان کریم کی سربراہی میں انجام دیا گیا ہے۔

بیکٹیریا کو’کچل کر‘ مارنے والے مقناطیسی ذرات

بیکٹیریا کو’کچل کر‘ مارنے والے مقناطیسی ذرات

سڈنی: بیکٹیریا اور جراثیم انسانیت کے لیے بڑے ہلاکت خیز خطرات بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا ادویاتی اسلحہ خانہ ان کے سامنے بے اثر ہوچکا ہے اور تگڑے ہوتے ہوئے بیکٹیریا کے سامنے نئی اینٹی بایوٹکس کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے لیکن نئی اینٹی بایوٹکس کی تیاری کے لیے بہت وقت، سرمایہ اور محنت درکار ہے۔ آسٹریلیا کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے حقیقت میں بیکٹیریا پر حملہ کرکے انہیں چیرپھاڑ کرنے پر تحقیق کی ہے۔ اس کے لیے سائنس دانوں نے مقناطیسی اور دھاتی مائع کے نینو ذرات (پارٹیکلز) بنائے ہیں۔ جب ایسے ذرات کو ہلکے مقناطیسی میدان میں رکھا جاتا ہے تو مائع دھات کے نینو قطرے اپنی شکل بدل لیتے ہیں اور ان کی کنارے نوک دار ہوجاتے ہیں۔ اب یہ اتنے باریک ہوتے ہیں کہ کسی نیزے کی طرح بیکٹیریا میں پیوست ہوکر اسے پنکچر کرنے کے قابل بن جاتے ہیں۔

ایک وقت میں خون روکنے اور لہو جمانے والی بینڈیج تیار

ایک وقت میں خون روکنے اور لہو جمانے والی بینڈیج تیار

سنگاپور: سائنس دانوں نے حادثاتی طور پر ایک ایسی پٹی تیار کرلی جو ایک ہی وقت میں دو کام کرسکتی ہے۔ اول یہ زخم سے خون کے بہاؤ کو روکتی ہے اور دوسری جانب باہر آنے والا خون جمنے میں مدد دیتی ہے جس سے زخموں کو مؤثر طور پر بند کرکے انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ زخم کو پٹیوں سے ڈھانکا جائے تو پٹی وقتی طور پر خون روک دیتی ہے لیکن پٹی اتارنے پر زخم دوبارہ کھل سکتا ہے اور اس سے خون کا بہاؤ بھی شروع ہوجاتا ہے۔ تو ضروری ہے کہ ایک جانب خون کے بہاؤ کو روکا جائے تو دوسری جانب خون کو بہنے سے بھی باز رکھا جائے۔

انڈے کی زردی سے بنی سستی اور مؤثر انسولین

انڈے کی زردی سے بنی سستی اور مؤثر انسولین

میلبرن: انسولین وہ ہارمون ہے جو خون میں شکر کی مقدار کو قابو میں رکھتا ہے، ذیابیطس کے مریضوں میں خاطر خواہ ہارمون نہیں بنتا جس کے لیے انسولین کے ٹیکے لگانے پڑتے ہیں لیکن اب اچھی خبر یہ ہے کہ ماہرین نے بہت کم خرچ اور مؤثر طریقے سے انسولین تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جس کا اہم جزو انڈے کی زردی ہے۔ لیکن موجودہ انسولین کی ایک خرابی یہ ہے کہ اگر اسے خاص ماحول میں نہ رکھا جائے تو اس کے اندر شامل اجزا ریشے دار شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ انسولین کا مرکب ایک یا دو دن میں باریک لوتھڑوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے جسے ’’فائبرلس‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ عمل مریضوں کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتا ہے، بالخصوص ایسے مریضوں کے لیے جو کسی پمپ کے ذریعے انسولین بدن میں داخل کرتے ہیں۔میلبرن میں واقع فلورے انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز اینڈ مینٹل ہیلتھ کے ڈاکٹر اختر حسین اور ان کے ساتھیوں نے انڈے کی زردی کے بعض اجزا کو اس طرح بدلا ہے ک

معاوضوں میں معمولی اضافہ بھی خودکشی میں کمی لاسکتا ہے، تحقیق

معاوضوں میں معمولی اضافہ بھی خودکشی میں کمی لاسکتا ہے، تحقیق

اٹلانٹا: امریکا میں کی گئی ایک سماجی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر محنت کشوں کی تنخواہوں یا معاوضوں میں صرف ایک ڈالر کا اضافہ بھی کردیا جائے تو اس سے خودکشی کی شرح میں 6 فیصد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ مطالعہ امریکیوں پر کیا گیا ہے اور اس میں امریکی معاشرے ہی کو مدنظر رکھا گیا ہے لیکن وسیع تر تناظر میں، ضروری ترامیم کے ساتھ، اسے دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کی معاشی و معاشرتی صورتِ حال کےلیے آزمایا جاسکتا ہے۔

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2019 Urdu News. All Rights Reserved